آج کی نعت

تڑپ تو رکھتا ہوں۔۔۔

تڑپ تو رکھتا ہوں زاد سفر نہیں رکھتا کرم حضور کہ میں بال و پر نہیں رکھتا میں عرض حال کے قابل کہاں مرے آقا سوائے عجز بیاں، میں ہنر نہیں رکھتا ستم زدہ ہوں نگاہ کرم کا طالب ہوں میں بے اماں ہوں کہیں کوئی گھر نہیں رکھتا مجھے بھی عشق کی سچائیاں میسر […]

تڑپ تو رکھتا ہوں۔۔۔ Read More »

فیض مگر آپ کی اماں سے ملا

ہمیشہ ایک نیا راستہ وہاں سے ملا چراغ نقش کف پا ترا جہاں سے ملا یہ کن اجالوں کی بستی کا تو مسافر تھا کہ آفتاب تری گرد کارواں سے ملا اسے بھٹکتے ہوئے آج تک نہیں دیکھا جسے ستارہ ترے سنگ آستاں سے ملا ترے عمل میں نظر آتی ہے جھلک اس کی ہمیں

فیض مگر آپ کی اماں سے ملا Read More »

حضور آپ کا اسم گرامی ہو لب پر

ہزار مرحلے طے کر شاعری گزرے پھر ایک سطر کہیں جا کے نعت کی گزرے وہاں وہاں پر کھلے پہلے پہلے روشن پھول جہاں جہاں سے بھی وہ آخری نبی گزرے سجود کرتی ہوئی جائے شب کی تاریکی سلام کرتی ہوئی دن کی روشنی گزرے مجھے بھی اذن سفر ہو دیار طیبہ کا حضورآپ کا

حضور آپ کا اسم گرامی ہو لب پر Read More »

Scroll to Top