فیض مگر آپ کی اماں سے ملا
ہمیشہ ایک نیا راستہ وہاں سے ملا چراغ نقش کف پا ترا جہاں سے ملا یہ کن اجالوں کی بستی کا تو مسافر تھا کہ آفتاب تری گرد کارواں سے ملا اسے بھٹکتے ہوئے آج تک نہیں دیکھا جسے ستارہ ترے سنگ آستاں سے ملا ترے عمل میں نظر آتی ہے جھلک اس کی ہمیں […]
فیض مگر آپ کی اماں سے ملا Read More »