ہزار مرحلے طے کر شاعری گزرے
پھر ایک سطر کہیں جا کے نعت کی گزرے
وہاں وہاں پر کھلے پہلے پہلے روشن پھول
جہاں جہاں سے بھی وہ آخری نبی گزرے
سجود کرتی ہوئی جائے شب کی تاریکی
سلام کرتی ہوئی دن کی روشنی گزرے
مجھے بھی اذن سفر ہو دیار طیبہ کا
حضورآپ کا اسم گرامی ہو لب پر
مرے وجود سے جب موت کی گھڑی گزرے
خاور اعجاز