فیض مگر آپ کی اماں سے ملا

ہمیشہ ایک نیا راستہ وہاں سے ملا

چراغ نقش کف پا ترا جہاں سے ملا

یہ کن اجالوں کی بستی کا تو مسافر تھا

کہ آفتاب تری گرد کارواں سے ملا

اسے بھٹکتے ہوئے آج تک نہیں دیکھا

جسے ستارہ ترے سنگ آستاں سے ملا

ترے عمل میں نظر آتی ہے جھلک اس کی

ہمیں تو حکم بھی جس کا تری زباں سے ملا

منافقین مدینے میں کم نہ تھے راحت

انھیں بحی فیض مگر آپ کی اماں سے ملا

Scroll to Top